کتوں کے کاٹنے کے واقعات اور چند گذارشات

 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔  


        قارئین کرام چند سالوں قبل ایک ہندوستانی شہری نے سپریم کورٹ میں ایک اپیل داخل کرکے کتوں کو مارنے پر روک لگانے کی درخواست کی تھی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے کتوں کے مارنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب گرام پنچایت میونسپلٹی اور کارپوریشن کتوں کو مارتے نہیں ہیں ورنہ اس سے پہلے تک جب کتوں کی کثرت ہوجایا کرتی تھی یہ ادارے ان کو مارکر کم کردیا کرتے تھے۔ 



       دوسری طرف صرف مالیگاؤں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے۔ اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ 



        لہذا ایسے وقت میں ضروری ہے کہ کوئی سوشل ویلفیئر سوسائٹی یا ادارہ کو آگے بڑھ سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کرکے سپریم کورٹ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کرنا چاہئے۔ 




       دوسری طرف عام شہریان سے درخواست ہے کہ اگر کوئی بچہ یا بچی یا کوئی ضعیف شخص ایسے راستے سے گذر رہا ہو جو سنسان ہو اور وہاں کتے بھی موجود ہوں تو ہمیں تھوڑا چوکنا رہنا چاہئے اور ان کی مدد کرنا چاہئے تاکہ ان کی جان کو کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہ ہو سکے۔ 



      اسی طرح گرام پنچایت میونسپلٹی اور کارپوریشن کے ذمے داران کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں چند ایسے ملازم ضرور رکھیں جن کی یہ ذمے داری ہوکہ ایسے کتے جو انسانی جانوں پر حملہ آور ہورہے ہیں انھیں انسانی بستیوں سے دور پہنچانے کا کام کریں۔ اور سرکاری اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کے بعد لگائے جانے والے انجیکشن کا بھرپور اسٹاک رکھیں تاکہ بوقت ضرورت انسانی جانوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ کیونکہ یہ انجیکشن کافی مہنگے ہوتے ہیں ہر شخص ان کو خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے۔



       ان چیزوں پر وقت رہتے دھیان دینے کی ضرورت ہے ورنہ کسی دن شہریان کا غصہ ابل پڑا تو کوئی بڑا واقعہ بھی رونما ہوسکتا ہے۔

تبصرے